تقریب تقسیم انعامات بہ حسن وخوبی اختتام پذیر
الحمدللہ! دینی تعلیم، فکری تربیت اور اخلاقی بالیدگی کا وہ مبارک سفر جسے جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر، کرشنا نگر، نیپال نے خالص اخلاص اور للہیت کے جذبے کے ساتھ شروع کیا تھا، آج اپنے ثمرات اور خوشبوؤں کے ساتھ پورے ملک میں پھیل چکا ہے۔
اسی علمی و تربیتی قافلے کی ایک تابندہ، روشن اور باعث فخر شاخ کلیۃ الزہراء للبنات، چنروٹا، شیوراج نگر پالیکا، وارڈ نمبر 5 ہے، جہاں اس وقت دو سو بیس سے زائد طالبات زیورِ علم و عرفان سے آراستہ ہو رہی ہیں۔
یہ ادارہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر، نیپال کے زیر انتظام نہایت منظم، مربوط اور مؤثر انداز میں کتاب و سنت کی سنہری و آفاقی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں مصروفِ عمل ہے اور ہر اعتبار سے دینی و اخلاقی معیار کا امین و پاسبان ہے۔
جامعہ کے ناظم اعلیٰ مولانا شمیم احمد ندوی کی مخلصانہ قیادت میں صرف چنروٹا ہی میں ادارے کی تین شاخیں فروغِ علم و تربیت میں سرگرمِ عمل ہیں:
1. مدرسہ ضیاء العلوم السلفیہ
2. مدرسہ عثمان بن عفان (شعبۂ حفظ، بنین و بنات)
3. کلیۃ الزہراء للبنات
یہ ادارے محض تعلیمی مراکز نہیں بلکہ کردار سازی، فکری تشکیل اور اخلاقی نکھار کے معتبر و فعال منبع ہیں، جہاں سے علم و بصیرت کی روشنی نکل کر معاشرے میں خیر و ہدایت کے چراغ روشن کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فضیلۃ الشیخ شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ کی خدمات کو شرف قبول عطا فرمائے اور ان کی کوششوں کو مزید ثمر بار کرے، آمین۔
اسی علمی فضا میں کلیۃ الزہراء للبنات میں ایک نہایت شاندار، پروقار اور بامقصد تقریبِ تقسیم انعامات کا انعقاد عمل میں آیا، جس کا مقصد طالبات کی علمی محنتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان میں دینی شعور و آگہی اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
یہ تقریب اس وقت منعقد ہوئی جب مولانا وسیم احمد مکی کی زیرِ نگرانی اربعین نووی کے حفظ کا مسابقہ کامیابی سے مکمل ہوا، جس میں متوسطہ، ثانویہ اور عالمیت کی منتخب طالبات نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ یہ محض ایک علمی مقابلہ نہیں تھا بلکہ حدیثِ نبوی سے قلبی وابستگی اور سنتِ رسول سے عملی تعلق کا مظہر بھی تھا۔
تقریب کا آغاز شعبۂ حفظ کی ایک طالبہ کی پرسوز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس نے سامعین و ساعات کے قلوب و اذہان کو معطر کر دیا۔ بعد ازاں طالبات نے خوش الحانی سے حمدیہ و نعتیہ کلام بھی پیش کیے۔
پروگرام کی نظامت کلیہ کے سینئر و کہنہ مشق مدرس فضیلۃ الشیخ مجیب الدین مدنی نے نہایت خوش اسلوبی، فصاحت اور بلاغت کے ساتھ انجام دی۔ ان کے مؤثر انداز بیان نے تقریب کو جاذبِ نظر اور سامعین کے لیے مکمل ہم آہنگ بنا دیا۔
مہمان خصوصی، جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر کے باوقار عہدہ شیخ الجامعہ پر فائز فضیلۃ الشیخ عبدالرشید مدنی نے "اربعینیاتِ حدیث" کی تاریخ، اہمیت، علمی افادیت اور روحانی اثرات پر نہایت پرمغز خطاب فرمایا۔ آپ کی گفتگو نے طالبات کے دلوں میں حدیث کی عظمت کو راسخ کیا اور حفظِ حدیث کی ترغیب کو اجاگر کیا۔
شیخ الجامعہ کے گراں قدر خطاب کے بعد جامعہ کی عظیم نسواں شاخ کلیۃ عائشہ صدیقہ للبنات، کرشنا نگر کے شیخ الحدیث فضیلۃ الشیخ وصی اللہ مدنی کا بصیرت افروز خطاب ہوا، جس میں آپ نے "حجیتِ حدیث" پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے طالبات کو معتبر و مستند غیر درسی کتابوں کی خوشہ چینی، اخلاقی تربیت اور کردار سازی کی خصوصی نصیحتیں فرمائیں۔
پروگرام کے اختتام سے قبل جامعہ سراج العلوم کے بےباک اور پرعزم ترجمان مولانا مشہود خاں نیپالی نے نہایت ولولہ انگیز انداز میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
"آپ کسی معمولی مشن کا حصہ نہیں، بلکہ پوری امت کی فکری و دینی بنیاد ہیں۔ آپ کے ہاتھوں میں ملت کا روشن مستقبل ہے۔ علم کو امانت سمجھ کر سیکھیں، اخلاص کو شعار بنائیں، اور خود کو امت مسلمہ کی خدمت کے لیے وقف کریں۔"
اس موقع پر کلیۃ الزہراء للبنات کے روح رواں شیخ تاج الدین سراجی نے بھی مختصر مگر بامعنی انداز میں طالبات کی علمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے فرمایا:
"یہ ادارہ ملت کی بیٹیوں کو علم، بصیرت، اور اخلاق کے زیور سے آراستہ کر رہا ہے۔ یہی وہ مشن ہے جس سے ایک مہذب، باشعور اور دیندار سماج وجود میں آتا ہے۔"
اسی موقع پر جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے نائب ناظم ڈاکٹر منظور احمد ندوی نے بھی مختصر بیان میں فرمایا:
"طالبات کی دینی و فکری ترقی خوش آئند ہے۔ کلیۃ الزہراء جیسا ادارہ قوم کی بیٹیوں کے لیے ایک نعمت اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔"
تقریب میں اساتذہ، معلمات، مقامی علم دوست حضرات، والدین اور سرپرستوں کی بڑی تعداد شریک رہی، جن کی موجودگی نے پروگرام کے وقار و اعتبار کو دوبالا کر دیا۔
تقریب کے اختتام پر نمایاں اور امتیازی نمبرات حاصل کرنے والی پانچ طالبات کو معزز مہمانانِ گرامی کے ہاتھوں شایانِ شان انعامات سے نوازا گیا، جب کہ دیگر تمام شریک طالبات کو بھی تحائف دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
یہ تقریب محض انعامات کی تقسیم کا موقع نہ تھی، بلکہ یہ علم، تربیت، ترغیب، بصیرت اور عمل کا حسین امتزاج تھی، جس نے طالبات کے دلوں میں علمِ دین کی سچی محبت، فکری پختگی اور عملی بیداری کو فروغ دیا۔
یقیناً یہ علمی و تربیتی نشست آنے والے وقت میں نسلوں پر دیرپا اثرات مرتب کرے گی، اور کلیۃ الزہراء للبنات، چنروٹا، نیپال ایک تابندہ مینارِ علم کی حیثیت سے اپنا سفر کامیابی سے جاری رکھے گا، ان شاء اللہ۔
اس بابرکت پروگرام کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں جن حضرات نے نمایاں یا خاموش کردار ادا کیا، ان میں بہ طور خاص مولانا محمد نصیف سلفی، حافظ عبدالمجیب اثری، حافظ محبوب عالم سلفی، حافظ محمد عاصم سراجی، حافظ عبدالحق سراجی، مولانا محمد زبیر سراجی، ماسٹر رحمت اللہ، ماسٹر نوراللہ اور دیگر معلمین و معلمات کی بےلوث اور مخلصانہ کوششیں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام منتظمین، معاونین اور اساتذہ کرام کی کاوشوں اور قربانیوں کو شرفِ قبول عطا فرمائے، آمین۔