نیپال بیرگنج میں مذہبی جلوس کے دوران تصادم، شہر میں کرفیو نافذ،



بیرگنج، 12 اپریل (نمائندہ خصوصی):
نیپال کے سرحدی شہر بیرگنج میں ہنومان جینتی کے موقع پر نکالی گئی مذہبی شوبھایاترا اس وقت پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی، جب مختلف برادریوں کے درمیان چھپکیا چوک کے قریب جھڑپ شروع ہوئی۔ جلوس پر مبینہ پتھراؤ کے بعد صورتحال بگڑ گئی اور شہر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

تصادم کے دوران متعدد دکانیں، گاڑیاں اور ہوٹلوں کو نقصان پہنچا، جن میں اقلیتی برادری کی املاک کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں کئی افراد زخمی ہوئے، جن میں مقامی شہریوں کے ساتھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، تاہم صورت حال کی سنگینی کے پیش نظر انتظامیہ نے بیرگنج شہر میں کرفیو نافذ کر دیا۔ کرفیو شام 6:30 بجے سے اگلے روز دوپہر 12 بجے تک نافذ رہے گا اور یہ بھیڈیاہی چوک سے لے کر سرسیا پل، گنڈک چوک اور شنکر آچاریہ گیٹ تک پھیلا ہوا ہے۔

نیپال میں اقلیتی برادری کے مذہبی رہنما اور راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکریٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"ہمارے معاشرے کی بنیاد انسانیت ہے۔ کسی بھی برادری کو خوف میں مبتلا کرنا اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانا نہ صرف اخلاقی اقدار بلکہ قومی یکجہتی کے خلاف ہے۔ ہمیں بھائی چارے اور ہم آہنگی کی مثال بننا ہوگا۔"

واقعے کے بعد شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ، سماجی رہنماؤں اور امن پسند شہریوں نے عوام سے صبر، تحمل اور افواہوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔

شہریوں میں اس وقت ایک ہی سوال گونج رہا ہے: "کیا ہم مل کر ایک ایسا معاشرہ بنا سکتے ہیں، جہاں ہر فرد کو انصاف، تحفظ اور عزت حاصل ہو؟"

Popular posts from this blog

दो मासूम बच्चे लापता, तलाश में जुटे परिजन – सुराग देने वाले को ₹10,000 का नकद इनाम

बुशरा खान ने इंटरमीडिएट में 95.2% अंक हासिल कर बढ़ाया क्षेत्र और जिले का मान

मदरसों के मुद्दों पर जिला शिक्षा कार्यालय में अहम बैठक, शिक्षा अधिकारी का सम्मान