نیپال: ’’پتھر نہیں، پولیس کو گلاب دو‘‘ — سابق شاہ گیانندر کا امن اور خلوص کا ولولہ خیز پیغام

کٹھمنڈو (خصوصی نیوز رپورٹ) — نیپال کے سابق شاہ مہاراجا گیانندر ویر وکرما شاہ دیو نے نئے نیپالی سال 2081 کی شروعات پر نرمل نیواس میں راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی (راپرا) کے اعلیٰ سطحی وفد سے ایک بامعنی اور جذباتی ملاقات کے دوران ایک ایسا پیغام دیا جو صرف سیاست نہیں، بلکہ انسانیت، بھائی چارے اور قومی ضمیر کی صدائے بازگشت بن گیا۔

اس خصوصی نشست میں راپرا کے صدر راجندر لنگدن، سابق صدور پسوپتی شمشیر جے بی آر، پرکاش چندر لوہنی، نائب صدور بکرم پانڈے، دھرو بہادر پردھان، بدھیمان تامانگ اور ترجمان گیانندر راج شاہی شریک تھے۔ ملاقات کے دوران قومی سیاست، سماجی ہم آہنگی، اور حالیہ پرتشدد واقعات کے پس منظر میں گہری بات چیت ہوئی۔

لیکن ملاقات کا سب سے دل دہلا دینے والا لمحہ وہ تھا جب سابق شاہ نے کہا: ’’ہم نے تخت اس لیے چھوڑا تھا کہ نیپالی ماں کے بیٹے نہ مریں، پھر یہ تحریک لہو رنگ کیوں ہوئی؟‘‘

ان کا پیغام عوام اور مظاہرین کے لیے انتہائی پراثر تھا: ’’پولیس پر پتھر مت پھینکو، انہیں گلاب دو! وہ تمہارے بھائی ہیں۔ خون سے جو نظام آتا ہے، وہ انصاف نہیں، انتقام لے کر آتا ہے۔‘‘

تینکونے میں پیش آئے پرتشدد واقعات سے متعلق انہوں نے وضاحت کی کہ نہ تو ان کی اجازت شامل تھی، نہ ہی نواراج سویدی کو تحریک کا کوئی عہدہ دیا گیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا: ’’یہ جھوٹ ہے۔ جو میرے نام پر سیاست کر رہے ہیں، وہ قوم سے خیانت کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے راپرا قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ راجاوادی تحریک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو اسے تشدد سے نکال کر امن، سناتن اقدار اور وقار کی راہ پر ڈالنا ہوگا۔ انہوں نے دورگا پسائی اور رویندر مشر کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

سابق شاہ کا درد قوم کے حالیہ زوال پر چھلک پڑا: ’’ملک میں اب کون بچا ہے؟ سب جوان بیرون ملک چلے گئے ہیں، سناتن دھرم کمزور ہو گیا ہے، نیپالی ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ ایسے میں ہم راشٹر کا نیا سورج کیسے دیکھ سکتے ہیں؟‘‘

ملاقات کے اختتام پر ان کا دوٹوک پیغام تھا: ’’خود کو بدلیں، ایجنڈا واضح کریں، اور میرے اصولوں کی روشنی میں چلیں۔‘‘

اب سوال یہ ہے کہ کیا راپرا اس پیغام کو دل سے سمجھے گی؟ کیا وہ واقعی ’’پتھر نہیں، گلاب‘‘ لے کر عوام کے بیچ جائے گی؟ یا پھر تاریخ ایک اور موقع ضائع ہوتے دیکھے گی؟

یہ لمحہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا — ایک شاہی صدا جو تخت سے نہیں، دل سے نکلی۔


Popular posts from this blog

दो मासूम बच्चे लापता, तलाश में जुटे परिजन – सुराग देने वाले को ₹10,000 का नकद इनाम

बुशरा खान ने इंटरमीडिएट में 95.2% अंक हासिल कर बढ़ाया क्षेत्र और जिले का मान

मदरसों के मुद्दों पर जिला शिक्षा कार्यालय में अहम बैठक, शिक्षा अधिकारी का सम्मान