مولانا شمیم احمد ندوی کی بصیرت بھری رہنمائی میں کلیۃ عائشہ صدیقہ گرلز کالج کا روح پرور انقلابی قدم —
تخصص فی الحدیث کے ذریعے بیٹیوں کے ہاتھوں میں علم، کردار اور نسبتِ نبویؐ کا چراغ
جھنڈا نگر، کرشنا نگر (نیپال): کلیۃ عائشہ صدیقہ گرلز کالج نے خواتین کی دینی تعلیم کے میدان میں ایک روح پرور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے "تخصص فی الحدیث" کے شعبے کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ یہ نہ صرف ایک علمی اقدام ہے بلکہ ایک فکری انقلاب کی شروعات ہے، جو طالبات کو صرف عالمہ نہیں بلکہ داعیہ، مصلحہ، اور قائدہ امت بنانے کے خواب کے ساتھ روشنی کی طرف لے جا رہا ہے۔
یہ شعبہ ان طالبات کے لیے ہے جو حدیثِ نبویؐ کی گہرائیوں میں اتر کر بصیرت، حکمت، فہم اور عمل کی دولت سے مالا مال ہونا چاہتی ہیں۔ یہاں علم محض پڑھایا نہیں جاتا، دلوں میں اتارا جاتا ہے، کردار میں ڈھالا جاتا ہے، اور نسبتِ نبویؐ کے رنگ میں سنوارا جاتا ہے۔
مولانا شمیم احمد ندوی (سرپرستِ ادارہ) نے کہا: "ہماری بیٹیوں کے ہاتھ میں علمِ دین کا چراغ ہو، یہی ہمارا خواب ہے۔ تخصص فی الحدیث کا آغاز انہیں امت کی فکری و اخلاقی رہنمائی کے لیے تیار کرے گا۔"
ڈاکٹر منظور احمد خاں علیگ (ناظم اعلیٰ) نے کہا: "یہ پروگرام صرف تعلیم نہیں، ایک نظریہ، ایک مشن ہے۔ ہم ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو علم کے ساتھ عمل اور بصیرت کے ساتھ قیادت رکھتی ہو۔"
ڈاکٹر عبدالغنی القوفی (مشرفِ شعبہ) نے کہا: "یہ تخصص وہ نور ہے جو دلوں کو جلا دے گا۔ ہم طالبات کو ایسا شعور دیں گے جو انہیں صرف عالمہ نہیں، امت کی بیٹیوں کی رہنمائی کا سلیقہ دے گا۔"
مولانا مشہود خاں نیپالی (ترجمان جامعہ) نے کہا: "یہ شعبہ صرف ایک کورس نہیں بلکہ ایک علمی انقلاب ہے — جو ہماری بیٹیوں میں دینی قیادت، خود اعتمادی اور فکری بیداری پیدا کرے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ حدیث کی خوشبو لے کر معاشرے کو معطر کریں، اور کردار سے سنتِ رسولؐ کا جیتا جاگتا نمونہ بن جائیں۔"
انتظامیہ نے علم کی تشنگی مٹانے کے لیے فیس میں 50 فیصد رعایت کا اعلان کیا ہے تاکہ مالی مجبوری کسی بھی طالبہ کے راستے کی دیوار نہ بنے۔ نشستیں محدود ہیں، جلد رجوع کی ہدایت کی گئی ہے۔
کلیۃ عائشہ صدیقہ گرلز کالج — جہاں علمِ حدیث صرف سکھایا نہیں جاتا، بلکہ روح میں اتارا جاتا ہے۔