آج نیپال کا 19واں یوم جمہوریت: ایک نیا سورج، ایک نیا عہد — مولانا مشہود خاں نیپالی کا تہنیتی پیغام
یوم جمہوریت وہ دن ہے جب خاموشی نے زبان پائی اور تخت لرز اٹھا۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسی گونج ہے جو صدیوں تک دلوں میں ارتعاش پیدا کرتی رہے گی۔ وہ لمحہ جب عوامی ارادے نے آمریت کی سنگین دیواروں میں دراڑیں ڈالیں اور جمہوریت کی کرنیں اندھیروں کو چیرتی ہوئی دلوں تک پہنچیں۔ آج نیپال 19واں یوم جمہوریت صرف سرکاری تقاریب میں نہیں بلکہ ہر اس دل میں منا رہا ہے جو آزادی اختیار اور وقار کا تمنائی ہے۔
یہ وہ دن ہے جب تخت کے سائے مدھم پڑے اور عوام کے قدموں کی چاپ بلند ہوئی۔ جب شہیدوں کا لہو سڑکوں پر بکھرا اور نیپال کی سرزمین نے ایک نئی صبح کی خوشبو کو محسوس کیا۔ ایسی صبح جس میں عوام کی آواز آئین بنی فیصلہ قانون ٹھہرا اور خواب حقیقت میں ڈھل گیا۔
2059 کے جیٹھ 8 گتے جب تحلیل شدہ پارلیمان بحال ہوئی اور 2063 کے ویشاکھ 11 گتے جب آمریت کے اندھیروں پر جمہوریت نے غلبہ پایا تب اعلان ہوا
ریاستی طاقت کا سرچشمہ نیپالی عوام ہیں
یہ الفاظ محض بیانات نہیں نیپال کی روح کی گونج تھے۔ اس گونج نے بتا دیا کہ بندوق کے سائے میں فیصلے نہیں ہوتے فیصلے عوام کے لبوں سے نکلنے والے نعرے کرتے ہیں۔
یہ تحریک جو سات سیاسی جماعتوں اور نیپال کمیونسٹ پارٹی ماؤوادی کی قیادت میں اٹھی صرف اقتدار کی تبدیلی نہ تھی وہ ضمیر کی بیداری تھی وہ ایک خواب کی تعبیر تھی۔ ویشاکھ 15 گتے جب ایوان نمائندگان کے دروازے کھلے تو ان دروازوں کے ساتھ عوام کی تقدیر نے بھی روشنی کی دہلیز پر قدم رکھا۔
اسی قربانیوں کی مٹی سے دو آئین ساز اسمبلیاں جنم لیں اور 2072 کے اسوج 3 گتے نیپال نے اپنی تاریخ رقم کی
وفاقی جمہوریہ نیپال کا آئین
یہ آئین الفاظ کا مجموعہ نہیں قربانیوں کی خوشبو عزم کے پھولوں کی مہک اور عوامی طاقت کا جیتا جاگتا استعارہ ہے۔
آج جب وفاق صوبہ اور مقامی حکومتیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر عوامی خدمت انجام دے رہی ہیں تو یہ فقط ایک نظام کی کامیابی نہیں اس لہو کی گواہی ہے جو تبدیلی کی فصل کو سینچنے میں بہا۔ آفات آئیں تو حکومت دہلیز پر پہنچی مسائل اٹھے تو آوازیں ایوان تک سنائی دیں۔ یہی ہے وفاقیت کا حسن جو فاصلے سمیٹ کر دلوں کو جوڑ دیتا ہے۔
یوم جمہوریت صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کا اشارہ بھی ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں
یہ زندگی کے ہر شعبے میں عوام کی شمولیت شعور اور شراکت کا استحقاق ہے
یہ وہ آئینہ ہے جس میں قوم اپنی شناخت پہچانتی ہے
اپنا چہرہ دیکھتی ہے اور سر فخر سے بلند کر لیتی ہے
2062 اور 2063 کی تحریک فقط انقلاب نہ تھی وہ ایک نئی تہذیب کی بنیاد تھی۔ اس لمحے کو ہمیشہ زندہ رکھنے اس جذبے کو نسل در نسل منتقل کرنے کے لیے 2065 سے ہر سال ویشاکھ 11 گتے کو یوم جمہوریت کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ نئی نسل جان لے کہ یہ نظام تحفے میں نہیں آیا یہ ہر اشک ہر آہ اور ہر شہید کے لہو سے رقم ہوا ہے۔
مولانا مشہود خاں نیپالی کا تہنیتی پیغام
یوم جمہوریت دراصل ایک عہد ہے ایک عہد کہ جب کبھی اندھیرے بڑھیں گے جب کبھی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہوگی تو عوام پھر سے اٹھیں گے پھر سے قربانی دیں گے اور پھر سے جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا کیونکہ اقتدار کا اصل وارث صرف اور صرف عوام ہوتا ہے
مولانا مشہود خاں نیپالی نے یوم جمہوریت کے اس تاریخی موقع پر تمام عوام نیپال کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ اللہ رب العزت اس وطن کو امن ترقی اور خوشحالی دے اور جمہوریت کی شمع ہمیشہ روشن رہے۔